KasautiJadeed.com » About – تعارف
About – تعارف
تعارف کسوٹی جدید
کسوٹی جدید کی اشاعت ایک ادبی ماہنامے کے بطور ۲۰۰۱ء میں ’’جہازی سائز‘‘ کے ۱۲ صفحات سے شروع کی گئی تھی۔ دوسرے شمارہ سے اسے موجودہ سائز میں ۳۲ صفحات پر مشتمل کر دیا گیا۔ لیکن پانچویں شمارہ کے بعد رسالہ تعطل کا شکار ہو گیا۔ دوسرے دور میں اسے ۲۰۰۸ء سے پھر شروع کیا گیا۔ جسے اب چھٹے شمارہ سے ۵۶ صفحات اور اب اسّی سفحات پر مشتمل کر دیا گیا ہے۔,
کسوٹی جدیدکے اجرا کا مقصد، سنجیدہ ادب کے قاری کو صحت مند تخلیقی ادب فراہم کروانا ہے۔ اردو ادب سے نئے ابواب، نئے موضوعات جوڑنا، فرسودہ موضوعات، تعریفی و توصیفی اور شخصی مضامین کی جگہ Relevant موضوعات کو ترجیح دینا ہے۔ ادب کو عام آدمی سے اور عام آدمی کو ادب سے قریب لانا ہے۔
کسوٹی جدیدکے اجرا کا مقصد عالمی مزاج سازی ہے۔ انسان کو انسان کے قریب لانا ہے۔ اس کی مذہبی، قومی اور ثقافتی شناخت کے ساتھ۔ جس کا فلسفہ عالمگیریت کی منصوبہ بندسرمایہ دارانہ فکر، استعماری سوچ اور استحصالی ذہنیت سے بالکل ہی مختلف ہے۔ جس کا مقصد اسلحہ اور طاقت کے بل بوتے دنیا کو زیر کرنا نہیں ہے۔ کسی مہلک سائنسی ایجاد کی دہشت سے عالمِ انسانیت کو سہمائے رکھنا نہیں ہے۔ جس کا مقصد اس جنت نذیر بستی (دنیا) کو کسی خوفناک دھماکے کی زد پر رکھ کر اچانک اُڑا دینا نہیں ہے۔ اور نہ ہی اس کا مقصد اقوامِ عالم کو سر نگوں رکھنا اور بر تری کا سکّہ جمانا ہے۔
کسوٹی جدیدکے اجرا کا مقصد ادب میں در آئی بد عتوں سے ادب کو پاک و صاف کرنا ہے۔ کسی سیاسی منشور کا پروپگنڈہ نہیں ہے۔
کسوٹی جدیدکی اشاعت کا مقصد تنقیدی دہشت گردی، ادبی گروہ بندی اور ناقد کی برتری کو (اس کی اہمیت کو نہیں) چیلنج کرنا ہے۔ ہمعصر تخلیقی ادب کی افہام و تفہیم اور تعین قدر کی راہ ہموار کرنا ہے۔ اور اردو ادب اور دوسری زبانوں کے ادب کا تقابلی مطالعہ، کسی بھی طرح کی عصبیت (نسلی، لسانی، علاقائی، مذہبی ثقافتی ……. وغیرہ وغیرہ) یا مصلحت و سیاست کی آلائش و آلودگی، الجھاؤ یا التباس یا کسی طرح کے تنازعہ اور انتشار و فساد سے پاک و صاف اور صالح ادب پیش کرنا ہے جو انسان کو ’’انسان‘‘ ہونے کا احساس دلا سکے، آپس میں دلوں کو جوڑ سکے، دنیا کو باغِ ارم بنا سکے۔ جس ادب کا رشتہ عصری تقاضوں اور عالمی مسائل سے ہو۔ کسوٹی جدیدکے اجرا کا مقصد ملک کی علاقائی زبانوں کے ادب کے ساتھ دنیا کی تمام زبانوں کے ادبی رجحانات و نظریات اور ان زبانوں میں تخلیق ہونے والے منثور و منظوم ادب کے نمونے تراجم کی شکل میں اردو معاشرہ کے رو برو پیش کرنا ہے۔کسوٹی جدیدکے اجراء کا ایک اہم مقصد ۔۔ بالکل تازہ ترین نسل، جس کی سگبگاہٹ ۱۹۹۰ء کے آس پاس سے محسوس کی جارہی ہے۔ یا جن لوگوں نے بالکل ابھی ابھی لکھنا شروع کیا ہے۔ جن کے اندر ممکن ہے ایسا ’’کچھ ‘‘ ہو جو اپنی شناخت قائم کرواسکے (گرچہ شناخت، ریاضتوں کے بہت بعد کا مرحلہ ہے)۔ ایسے تازہ ترین و تاز کار کار تخلیقی اذہان کو سامنے لانا ہے۔ ان میں امکانات تلاش کرنا ہے۔ ان کی ذہنی، روحانی، وجدانی اور فکری تربیت اور مزاج سازی کرنا ہے۔ ان کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔نئے قلم کار بہت اہم ہوتے ہیں جو نہایت معصومیت کے ساتھ ادب تخلیق کرتے رہتے ہیں۔ ممکن ہے ان کے ٹوٹے پھوٹے الفاظ نئی تاریخ تحریر کریں۔ ممکن ہے ان کی توتلی اور معصوم بولیوں میں آمدِ صبحِ نو کی بشارت پوشیدہ ہو۔ تلاش ہمارا کام ہے۔ ’’امکانات‘‘ سے گریز نا گزیر ہے۔ اس لئے کہ کوئی بھی زمانہ ’’امکانات‘‘ سے خالی نہیں گزرتا۔ اس لیے ان کی موجودگی کا اعتراف کیا جا نا چاہیے۔ ان نئی فکری قوتوں اور نئی تخلیقی صلاحیتوں کے اعتراف نہ کرنے یا ان سے انحراف یا انہیں انظر انداز کرنے یا یکسر مسترد کردینے کا کوئی جواز نہیں ٹھہرتا ہے۔ یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ پھر ایک تازہ کار نو مولود نسل ہماری بے اعتنائی و بے توجہی کی بھینٹ چڑھ کر بے شناخت اور بے چہرہ ہونے کے تکلیف دہ احساس سے دو چار نہ ہو۔








